Archive for the ‘My Pakistan’ Category

Ali Zafar, the prince of pop is out with his newest song – “Jee Dhoondta Hai”
Yes! The much awaited video from the album “Jhoom” is out!

 

Advertisements

اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں

ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر!
پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم
تو اور ہمیں ناشاد نہ کر!
قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ
یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر!
یوں ظلم نہ کر، بیداد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

جس دن سے ملے ہیں دونوں کا
سب چین گیا، آرام گیا
چہروں سے بہار صبح گئی
آنکھوں سے فروغ شام گیا
ہاتھوں سے خوشی کا جام چھٹا
ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیا
غمگیں نہ بنا، ناشاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے ہیں
رو رو کے دعائیں کر تے ہیں
آنکھوں میں تصور،دل میں خلش
سر دھنتے ہیں آہیں بھرتےہیں
اے عشق! یہ کیسا روگ لگا
جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں؟
یہ ظلم تو اے جلاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

یہ روگ لگا ہے جب سے ہمیں
رنجیدہ ہوں میں بیمار ہے وہ
ہر وقت تپش، ہر وقت خلش بے
خواب ہوں میں،بیدار ہے وہ
جینے سے ادھر بیزار ہوں میں
مرنے پہ ادھر تیار ہے وہ
اور ضبط کہے فریاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

جس دن سے بندھا ہے دھیان ترا
گھبرائےہوئے سے رہتے ہیں
ہر وقت تصور کر کر کے
شرمائے ہوئے سے رہتے ہیں
کملائے ہوئے پھولوں کی طرح
کملائے ہوئے سے رہتے ہیں
پامال نہ کر، برباد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

بیددر! ذرا انصاف تو کر!
اس عمر میں اور مغموم ہے وہ!
پھولوں کی طرح نازک ہے ابھی
تاروں کی طرح معصوم ہے وہ!
یہ حسن ، ستم! یہ رنج،غضب!
مجبور ہوں میں! مظلوم ہے وہ!
مظلوم پہ یوں بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

اے عشق خدارا دیکھ کہیں
وہ شوخ حزیں بدنام نہ ہو !
وہ ماہ لقا بدنام نہ ہو !
وہ زہرہ جبیں بدنام نہ ہو !
ناموس کا اس کے پاس رہے
وہ پردہ نشیں بدنام نہ ہو!
اس پردہ نشیں کو یاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

امید کی جھوٹی جنت کے
رہ رہ کے نہ دکھلا خواب ہمیں!
آئندہ کی فرضی عشرت کے
وعدوں سے نہ کر بیتاب ہمیں!
کہتا ہے زمانہ جس کو خوشی
آتی ہے نظر کمیاب ہمیں!
چھوڑ ایسی خوشی کویاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

کیا سمجھےتھےاور تو کیا نکلا
یہ سوچ کےہی حیران ہیں ہم!
ہے پہلے پہل کا تجربہ اور
کم عمر ہیں ہم، انجان ہیں ہم!
اے عشق ! خدارا رحم و کرم!
معصوم ہیں ہم ،نادان ہیں ہم!
نادان ہیں ہم، ناشاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

وہ راز ہے یہ غم آہ جسے
پا جائے کوئی تو خیر نہیں!
آنکھوں سےجب آنسو بہتےہیں
آجائے کوئی تو خیر نہیں!
ظالم ہے یہ دنیا، دل کو یہاں
بھا جائے کوئی تو خیر نہیں!
ہے ظلم مگر فریاد نہ کر!
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر!

دو دن ہی میں عہد طفلی کے
معصوم زمانے بھول گئے!
آنکھوں سےوہ خوشیاں مٹ سی گئیں
لب کووہ ترانےبھول گئے!
ان پاک بہشتی خوابوں کے
دلچسپ فسانے بھول گئے!
ان خوابوں سے یوں آزاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

اس جان حیا کا بس نہیں کچھ
بے بس ہے پرائے بس میں ہے
بے درد دلوں کو کیا ہے خبر
جو پیار یہاں آپس میں ہے
ہے بے بسی زہر اور پیار ہے رس
یہ زہر چھپا اس رس میں ہے
کہتی ہے حیا فریاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

آنکھوں کو یہ کیا آزار ہوا
ہر جذب نہاں پر رو دینا!
آہنگ طرب پر جھک جانا
آواز و فغاں پر رو دینا!
بربط کی صدا پر رو دینا
مطرب کے بیاں پر رو دینا!
احساس کو غم بنیاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

ہر دم ابدی راحت کا سماں
دکھلا کے ہمیں دلگیر نہ کر!
للہ حبابِ آب رواں پر
نقش بقا تحریر نہ کر!
مایوسی کے رمتے بادل پر
امید کے گھر تعمیر نہ کر!
تعمیر نہ کر، آباد نہ کر !
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر!

جی چاہتا ہے اک دوسرے کو
یوں آٹھ پہر ہم یاد کریں!
آنکھوں میں بسائیں خوابوں کو
اور دل میں خیال آباد کریں!
خلوت میں بھی ہوجلوت کاسماں
وحدت کو دوئی سےشاد کریں!
یہ آرزوئیں ایجاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

دنیا کا تماشا دیکھ لیا
غمگین سی ہے ، بے تاب سی ہے!
امید یہاں اک وہم سا ہے
تسکین یہاں اک خواب سی ہے!
دنیا میں خوشی کا نام نہیں
دنیا میں خوشی نایاب سی ہے!
دنیا میں خوشی کو یاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

(اختر شیرانی)

ہفتہ, 28 مئی 2011 10:38

اعظم طارق کوہستانی
آج پاکستان بھر میں 13 واں یومِ تکبیر منایا جارہا ہے۔
1998ءمیں بھارت نے پوکھران (راجستھان) کے صحرا میں ایٹمی دھماکا کیا تو رعونت وتکبر سے مست اس گیدڑ نے پاکستان کو آنکھیں دکھانا شروع کردی۔ فوج اس کی سرحدوں پر آگئی۔ قریب تھا کہ بھارت حملہ کردیتا مگر اس کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ ہر پاکستانی کا دل لرز رہا تھا۔ لبوں پر ایک ہی سوال تھا کہ اب کیا ہوگا؟ مگر خدا کی قدرت دیکھیے کہ اس کے چند روز بعد پاکستان نے چاغی کے بلند وبالا پہاڑوں میں اس سے کئی گنا زیادہ طاقتور ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کے منہ پر گویا طمانچہ رسید کردیا۔ حیرت کے مارے ہکابکا بھارت کے وہم وگمان میںبھی نہ تھا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اس درجے تک پہنچ جائے گی۔

مغربی دنیا کے بے پناہ دباﺅ اور اندرونی سازشوں کے باوجود ایٹمی دھماکے کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ سازشوں کے اس جال میں یہ انہونی معجزے سے کم نہ تھا۔ پاکستان کے یوں ”اچانک“ اتنی بڑی ایٹمی طاقت بن جانا مغربی دنیا کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ پوری مغربی دنیا میں بھونچال ساآگیا۔

اسرائیل تو اس سے پہلے ایک خوفناک منصوبہ بناچکا تھا جو اگر کامیاب ہوجاتا تو اس وقت پاکستان…. خاکم بدہن…. دنیا کے نقشے پر نہ ہوتا۔ پاکستان کے محافظ اچھی طرح جانتے تھے کہ دشمن کبھی بھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔ وہ خوب جانتے تھے کہ اسرائیل نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کو 7جون 1981ئ میں اس وقت تباہی سے دوچار کیا جب محافظوں کی ایک شفٹ اپنی ڈیوٹی ختم کرکے جارہی تھی اور دوسری شفٹ والے ابھی اپنی ڈیوٹیاں نہ سنبھالنے پائے تھے کہ درمیانی وقفے کا ٹھیک ٹھیک وقت معلوم کرکے اسرائیلی طیاروں نے ایسا اچانک اور بھرپور حملہ کیا کہ سب کچھ ملیامیٹ ہوگیا۔ ساتھ ہی وہ نامور سائنس دان بھی اللہ کو پیارا ہوگیا اور عراق اس میدان میں بہت پیچھے چلا گیا۔

ایسا ہی ایک کھیل اسرائیل نے اس وقت بھی بنایا۔ ایٹمی دھماکے سے چند روز پہلے سعودی عرب کے” اواکس “(Awacs) طیاروں نے اسرائیلی جہازوں کے 6 اسکواڈرنوں کو بھارت کی طرف پرواز کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ اس وقت کی کشیدگی اور حالات کے ”سیاق وسباق “میں سعودی فضائیہ کو یہ صورت حال بڑی عجیب وغریب اور معنی خیز معلوم ہوئی۔ چنانچہ سعودی عرب نے روایتی دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت پاکستان کو فوری طور پر اس سے مطلع کرنا اپنا فرض سمجھا۔ یہیں سے معاملہ اسرائیل کی مخالفت میںچلا گیا۔ حکومت پاکستان معاملے کو بھانپ گئی۔ مواصلاتی سیٹلائٹ کے ذریعے اسرائیلی طیاروں کی نقل وحرکت کی مانیٹرنگ شروع کردی۔

رات بارہ بجے کے قریب بھارتی سفیر سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو بہانہ تراشا گیا کہ وہ کہیں ”گئے“ ہوئے ہیں۔ دوسری دفعہ فون کیا تو معلوم ہوا کہ جناب ”سورہے“ ہیں۔ اصرار کرکے جب جگایا گیا اور بھارت میں اسرائیلی طیاروں کی مصروفیات کا سبب پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ کل سویرے اپنی حکومت سے صورت حال معلوم کرکے جواب دیں گے۔ پاکستانی حکام نے اس گول مول جواب پر بجائے سرتسلیم خم کرنے کے اسے غیر تسلی بخش پاکر سفیر کو فوراً دفتر خارجہ طلب کیا اور اسے پاکستان کے بے حد قریب ایک ایئربیس پران کی موجودگی کی فلم دکھائی۔ انہوں نے اسے بھارتی طیارے ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی…. مگر…. بے سود…. پاکستانی حکام نے کہا: ”یہ طیارے بھارت کے خرید کردہ نہیں ہیں، اسرائیل ہی کے ہیں جو کل یہاں پہنچے ہیں۔“ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا: ”اپنی حکومت کو ہمارا یہ انتباہ پہنچادو کہ اس نے اس موقع پر کسی قسم کی مہم جوئی کی کوشش کی تو ان طیاروں کے پاکستان کی طرف بڑھنے سے پہلے بھارت کو عبرت ناک سبق سکھایا جائے گا۔“

چنانچہ جب بھارت کو اس تشویش سے آگاہ کیا گیا تو اسرائیل کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔
اگر اس وقت پاکستان کے جری مجاہد اپنے گردو پیش پر گہری نظرنہ رکھتے تو انہیں شدید قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا اور وہی ہوتا جو عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کے ساتھ ہوا تھا۔ اس کے اگلے روز سات ایٹمی دھماکے کرکے یہود و ہنود کے چھکے چھڑادیئے اور بتادیا کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں اور پاکستان پر اپنی غلیظ نگاہیں جمانے والا بھارت کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے لگے۔ واقعی قوم کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس وقت بھارت کی ریشہ دوانیوں کا بھرپور جواب دیا اور پاکستانی قوم کے جذبے کو مہمیز بخشی۔ امریکا واسرائیل اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

اسرائیل اور پاکستان کی دشمنی کے صرف دو اہم اسباب ہیں۔ پہلا یہ کہ بعض عرب ملکوں نے اسرائیل کے ناجائز وجود کو سیاسی طور پر تسلیم کربھی لیا مگر پاکستان نے سخت دباﺅ کے باوجود اسرائیل کے ناجائز وجود کو ماننے سے انکار کردیا۔ دوسرا یہ کہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد ”دین اسلام“ ہے۔ یہود کا اسلام کے ساتھ بیر پندرہ صدیاں پرانا ہے۔ چنانچہ جب وہ اپنی نظریاتی بنیاد پر غور کرتے ہیں تو انہیں تاریخی تصادم یاد آجاتا ہے جس کا آغاز ریاست مدینہ میں ہوا تھا۔

اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین نے اس حقیقت کا اعتراف 1967ءکی عرب اسرائیل جنگ کے فوراً بعد کیا۔ انہوں نے پیرس کی ”ساربون یونیورسٹی“ میں ممتاز یہودیوں کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ”بین الاقوامی صیہونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستانی درحقیقت ہمارا اصلی اور حقیقی آئیڈیالوجیکل (نظریاتی) جواب ہے۔ پاکستان کا ذہنی وفکری سرمایہ اور جنگی وعسکری قوت آگے چل کر کسی بھی وقت ہمارے لیے مصیبت بن سکتی ہے۔ ہمیں اچھی طرح سوچ لینا چاہیے بھارت سے دوستی ہمارے لیے نہ صرف ضروری ہے بلکہ مفید بھی ہے۔ ہمیں اس تاریخی عناد سے لازماً فائدہ اٹھانا چاہیے جو ہندو پاکستان اور اس میں رہنے والے مسلمان کے خلاف رکھتا ہے لیکن ہماری حکمت عملی ایسی ہونی چاہیے کہ ہم بین الاقوامی دائروں کے ذریعے ہی بھارت کے ساتھ ربط وضبط رکھیں۔“

امریکی کونسل فار انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیر اہتمام چھپنے والی ایک کتاب ”مشرقی وسطیٰ: سیاست اور عسکری وسعت“ میں پاکستان کی مسلح افواج اورسول ایڈمنسٹریشن کے کردار کے حوالہ سے ذکر کیا گیا ہے: ”پاکستان کی مسلح افواج نظریہ پاکستان، اس کے اتحاد وسالمیت اور استحکام کی ضامن بنی ہوئی ہیں جبکہ ملک کی سول ایڈمنسٹریشن بالکل مغرب زدہ ہے اور نظریہ پاکستان پر یقین نہیں رکھتی۔“

ان تجزیوں کو پڑھ کر دکھ ہوتا ہے کہ یہود ونصاریٰ ہمیں ختم کرنے کے درپے ہیں جبکہ ہمیں مال سمیٹنے سے فرصت نہیں۔ اس وقت ملک پاکستان انتہائی کڑے حالات سے گزررہا ہے۔ ایٹم بم بنا تو لیا ہے مگر اس کی حفاظت بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ امریکا، بھارت، اسرائیل اور روس پاکستان کے ان ایٹم بموں پر اپنی رال ٹپکا رہے ہیں لیکن دوسری طرف حکمرانوں کی بے حسی اپنی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اگر اس موقع پر بھی ہم نے فہم وفراست کو پس پشت ڈال کر حماقت پر تکیہ کیا تو یقین جانیے یہ ایٹم بم بھی ہمیں نہیں بچاسکتا۔ ہمیں خود کو پٹھان، پنجابی، سندھی، بلوچی، کشمیری اور مہاجر کے خول سے نکال کر صرف ایک مسلمان کے خول میں سمیٹنا ہوگا۔ اگر روس، امریکا، بھارت اور اسرائیل چار مختلف مذاہب کے ملک عالم اسلام کے خلاف ایک ہوسکتے ہیں تو کیا ہم سندھی، پنجابی، بلوچی، مہاجر، پٹھان ایک نہیں ہوسکتے جب کہ ہمارا مذہب ایک ہے؟ ہمارا رسول اور ہماری کتاب ایک ہے تو پھر دلوں میں یہ تعصب کیوں؟ آپ اس پر ضرور سوچیے اور میں بھی سوچتا ہوں۔

نشان حیدر واہ جی واہ

پاکستان میں سیلاب کے بعد ہمارے پڑوس میں ایک گھرانہ جو تین افراد پر مشتمل ہےآکر بسا ماں باپ اور ایک گیارہ بارہ سال کی بچی۔گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان گیا تو صبح کے وقت مسواک کاٹنے کھیتوں کی طرف جانا ہوا تو دیکھا کہ پختہ عمر کی خاتونہ سر پر ہاتھ رکھے بیٹھی رو رہی ہیں۔میں نےپوچھا ماسی کیا ہوا خیریت تو ہے؟

ماسی نے پشتو میں کہا تنگ نہ کر اور اپنا راہ لے۔ساتھ میں ہاتھ سے اشارہ بھی کر دیا۔کیونکہ ہم جاپان میں رہ کر کچھ جدید ہو گئے ہیں۔اس لئے ماسی کی پرائیویسی میں دخل نہیں دیا اور معذرت کرکے آگے نکل گئے۔واپسی پہ دیکھا ماسی اسی طرح بیٹھی رو رہی ہے۔گھر واپس آکر اماں جی کو خبر دی کہ کوئی ماسی رو رہی ہے۔

اماں جی نے فٹافٹ چادر اٹھائی اور کہا آج پھر اسے دورہ پڑا ہے۔میں جاتی ہوں۔اماں جی ہمارے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی پھرتی سےنکل گئیں۔کوئی گھنٹے بعد دیکھا دونوں آئیں اور باورچی خانے کے پاس بیٹھ گئیں۔خاموشی سےکوئی بات چیت کئے بغیر ناشتہ وغیرہ کر رہی ہیں اور چائے پی کر ماسی تو خاموشی سے اپنے گھر چلی گئی۔

بعد میں پوچھنے پر معلوم پڑا کہ ماسی کے دو جوان بیٹے سیلاب میں سوات سے بہہ گئے تھے اور جن کی لاشیں سندھ میں کہیں ملی تھیں۔مجھے بات کچھ ہضم نہیں ہوئی اور مزید پوچھا کہ گیارہ بارہ سال کی بچی بھی سیلاب سے بچ گئی اور یہ دونوں میاں بیوی بھی جو کہ جوان بھی نہیں ہیں۔دو جوان بچے کیسے سیلاب میں بہہ گئے؟

جو معلومات ملیں اس کے مطابق اگر بچے سوات میں موجود طالبان کے ساتھ نہ ہوتے تو بھی خطرہ تھا۔جو فوج نے آپریشن کیا تو جہادی تنظمیں تو تتر بتر ہوگئیں۔یہ بچے گھر پر ہی رہے۔جن کا صرف اٹھنا بیٹھنا طالبان یا مذہبی قسم کے لوگوں میں تھا۔فوج نے ان دونوں بچوں کو اٹھایا جن کی عمریں سترہ اور اٹھارہ سال تھیں۔اور ان سے تفتیش کی اس تفتیش کا نتیجے میں ان بچوں کو نشان حیدر ملا کہ دونوں کی ٹانگیں توڑ کر معذور کر دیا گیا۔

جب سیلاب آیا تو یہ دونوں بچے بھاگ نہ سکے۔اور اللہ میاں کو پیارے ہو گئے۔میرے اپنے خاندان میں سے بھی کچھ لڑکے جہادی تنظیموں میں گئے اور اس کے بعد اللہ میاں کے پاس چلے گئے۔جو غازی ہو کر دوبارہ معاشرے میں آئے ان کی ذہنی حالت منتشر ہے۔خاندان والے ان کے پیدا کئے ہوئے مسائل کو بھگت رہے ہیں۔

یہ جہادی تنظیمیں کہاں سے وجود میں آئیں کس نے بنائیں؟۔اور جو جسمانی طور پر مضبوط اور خوبصورت جوان تھا ان میں کیسے شامل ہوا؟یہ سوالات ہیں جن کے جوابات مشکل تو نہیں لیکن کٹھن ضرور ہیں۔اس کے بعد انہیں بے روزگار اور لاوارث چھوڑ دیا گیا۔یہ نہ دین کے رہے نہ دنیا کے۔وہی جو مجاہد کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔انہیں دھشت گرد ، انتہا پسند کہہ کر دیوار سے لگا دیا گیا۔

جن کا ان مذہبی تنظیموں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔فوج نے انہیں پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔جو اصلی لوگ تھے وہ آگے پیچھے ہوگئے۔ایک طرف اس دفعہ کراچی میں بحری فوجی اڈے پر حملے پر ہمارا دل دکھتا ہے تو دوسری طرف مالی مفاد کی خاطر یوٹرن لینے والوں کی بے رحمی پر بھی غصہ آتا ہے۔ادھر بھی اپنے اور ادھر بھی ان ہی کے تیار کردہ ٹھکرائے ہوئے ہیں۔

کس کو روئیں؟ اور کس کو نہ روئیں ؟ ۔کسے الزام دیں ؟ کسے مجرم کہیں؟

کوئی یاسرعباس مارا گیا۔جدی پشتی فوجی گھرانے سے تھا۔یعنی مالدار ہوا۔وزیر اعظم صاحب کی اہلیہ محترمہ پرسہ دینے پہونچ گئیں۔۔رینجر اور فائیر برگئیڈ کے کیڑے مکوڑے بھی شہید ہوئے ہیں ۔ان کے دوکمرے میں ٹھنسا بڑا سا گھرانہ ہوگا۔ان کے پاس کوئی پرسہ دینے نہیں گیا؟ یعنی نشان حیدر بھی اثر رسوخ رکھنے والوں کیلئے ہوا؟

اس اثر رسوخ کےغلط استعمال کوپہلی بار ہم نے اپنی کم سنی میں محسوس کیا جب ہم ہائی سکول کے طالب علم تھے تو بری فوج کی میراتھن ریس ہوئی ہم لوگوں نے حویلیاں سے ایبٹ آباد شہر میں فوج کی چھاونی تک دوڑنا تھا۔ہم بھی بڑی خوشی خوشی دوڑے اور ساتھ ساتھ دیکھتے گئے کہ بعض اچھے سرکاری ملازمین کے بچے بھی ہمارے ساتھ دوڑ رہے ہیں ان میں بعض ہمارے کلاس فیلو بھی تھے۔

جب وہ لڑکے تھک جاتے تو کوئی انکل شنکل ان کو بائیک پر اپنے پیچھے بیٹھا لیتے۔ہم نے کوئی دھیان نہ دیا اور اپنی دھن میں بھاگتے رہے۔ہم تین دوست تھے اور تینوں غریباں دے پتر۔ تینوں اپنی دھن میں مگن میراتھن ریس دوڑے اور فوجی چھاونی میں کھانا کھایا جو گھروں میں کم ہی کھانے کو ملتا تھا۔

وہاں پر ہم نے سنا کہ مراتھن دوڑنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے۔اخبار میں خبر بھی لگے گی اور سب کو باقاعدہ پارٹی میں میڈل دیئے جائیں گے۔ہم خوش خوش گھر واپس آئے اور سب سے کہا مزے کا کھانا بھی کھایا اور اب اخبار میں نام بھی شائع ہوگا۔میڈل وی ملے گا۔ آہو

فئیر یہ ہوا جی کہ جنہوں نے بائیک پر ریسٹ مارکہ دوڑ لگائی تھی انہیں پارٹی میں انوائیٹا گیا۔میڈل دیئے گئے۔غریباں دے پتراں کو کسی نے نہ پوچھا۔

ہم انتظار ہی کرتے رہ گئے کہ کب دعوت نامہ ملتا ہے۔

تو جناب نشان حیدر بھی کچھ ایسی ہی شے ہے۔ہیرو نہیں تھا تو کیا ہوا۔۔ہم بنا دیں گے نا۔۔۔۔آہو۔

سید یاسر جاپانی کے بلاگ سے

__________________

Keshan carpet, "Leila en Madschnun"

Image via Wikipedia

Love is known to be an overwhelming, all-consuming, intense passion. But just how intense can love be? No one knows the answer, and examples of such a love are rare. But whenever one talks about the depth of love, the intensity of passion, two names almost immediately come to mind- Laila and Majnu.

The love story of Laila and Majnu is a very famous one and is no less than a legend. Even today, people know them as Laila Majnu; the “and” in between is missing. They were two in flesh, but one in spirit. It is based on the real story of a young man called Qays ibn al-Mullawah from the northern Arabian Peninsula, in the Umayyad era during the 7th century. The love story of “Laila and Majnu” is an eternal one albeit a tragic one.

Laila was a beautiful girl born in a rich family. Being no less than a princess, she was expected to marry a wealthy boy and live in grandeur and splendor. But love is born from the heart; it knows no rules. Laila fell in love with Qays and he too loved her dearly. Qays was a poet and belonged to the same tribe as Laila. He composed splendid love poems and dedicated them to his lady-love, telling in them his love for her and mentioning her name often. Qays’ friends knew about his affair with Laila and they often teased and made fun of his love. But such taunts had no effect on Qays. He was deeply in love with Laila and it was her thoughts alone that possesed his mind for all time.

It had been for quite sometime that Qays toyed with the idea of seeking Laila’s hand in marriage from her parents. One day, he went up to them and put the big question before them.

But Qays was a poor lad. And when he asked for Laila’s hand in marriage, her father promptly refused him as he didn’t want her daughter to marry below her status. It would mean a scandal for Laila according to Arab traditions.

As fate would have it, the two lovers were banished from seeing each other. Soon after, Laila’s parents married her off to a wealthy man and she went on to live in a big mansion.

When Qays heard of her marriage he was heartbroken. He fled the tribe camp and wandered in the surrounding desert. His family eventually gave up on his return and left food for him in the wilderrness. He could sometimes be seen reciting poetry to himself or writing Laila’s name in the sand with a stick. Day and night, he pined for her.

Laila was no better. Seperated from Qays, she was shattered in mind, body and spirit. Not long afterwards, in 688 AD, she moved to Iraq with her husband, where she fell ill and died eventually.

When Qays’ friends came to know about Laila’s death, they went looking for him all over to give him the news. But they could not find him.

Not much later, , their search for him came to an end. Qays was found dead in the wilderness near Laila’s grave. On a rock near the grave, he had carved three verses of poetry, which are the last three verses ascribed to him.

Qays went mad for his love; for this reason he came to be called “Majnu”, or “Majnun Layla”, which means “Driven mad by Layla”.

Such a love is hard to find today. So if ever you love someone, try to love like these two did. Even today, lovers swear by their name. It is their love affair that has made Laila and Majnu immortal in the accounts of great love stories.

MOHALI – Pakistan lost the semi-final against arch-rivals India by 29 runs.

In the post-match presentation with Ravi Shastri; Pakistan captain Shahid Afridi said sorry to Pakistan nation for not fulfilling their hopes.

 

But I want to say on behalf of Pakistan Nation We Love you Pakistan Cricket Team.

انوکھی واردت

اسلام علیکم،
بروز جمعرات 24 مارچ 2011 کو ہمارے شہر میں ایک انوکھی واردت ہوئی ، قصہ کچھ یوں ہے کہ محلے کی ایک اگلی کوئی فقیر صدا دے رہا تھا اور جیسا کہ جمعرات کو خیرات و صدقات کے حوالے سے ایک خاص دن سمجھا جاتا ہے اسی لئے اس گلے میں موجود ایک گھر سے اس فقیر کو کھانا کھلانے کے لئے گیراج میں بٹھایا گیا ، گیراج کے سامنے ہی چارپائی پر اس گھر کی مالکن (اماں جی ) موجود تھی جبکہ ان کی بہو نے فقیر کو کھانا پیش کیا تھا فقیر نے کھانا کھانے کے بعد خود مالکن کو دعا کو برتن پکڑانے کی کے لئے دعا دیتا ہوں اس کے پاس گیا اور سر پر پیار دے کر دعائیں دیتا گیا اس دوران ( اللہ بہتر جاننے والا ہے) بقول اس مالکن کے اس فقیر نے کچھ پڑھا ہو گا اور کہا جا بیٹا جہاں پر گھر میں کچھ روپے پڑے ہیں وہ اٹھا کے لا دو اور کسی سے ذکر مت کرنا جو گھر کی مالکن اندر کمرے میں الماری سے تقریبا 36000 روپے جو اس وقت موجود تھے وہ لے آئی تو فقیر نے کہا کہ اب مجھے گلی متک چھوڑ آو اور اس کو ساتھ لے کر ان کے گھر سے تقریبا 3 گھر کی دوری تک ساتھ لے گیا اور پھر کہا کہ اب واپس گھر جاو اندر سے دروازہ بند کر لینا اور کسی سے اس بارے میں ذکر کیے بغیر جا کر آرام کروں۔ اس کے ساتھ ہی اب کسی کو نہیں پتہ کہ وہ فقیر کون تھا اور کہاں گیا

خیر اب تک کا سب سے عجیب واقعہ ہے جو دیکھنے ، سننے میں آیا سوچا آپ لوگوں کے ساتھ شئیر کر دوں ،

والسلام

__________________