کُچھ بارے زن مُریدوں کے

Posted: September 7, 2012 in Urdu

کہتے ہیں عورتیں دو طرح کی ہوتی ہیں، ایک وہ جو منہ کے اندر زبان رکھتی ہیں، دوسری زبان کے اندر منہ رکھتی ہیں۔ ویسے ایک بات تمام عورتوں میں مشترک ہے کہ وہ کان نہیں رکھتیں۔ دنیا کا دستور ہے، وہی چیز اپنے پاس رکھی جائے جسے استعمال کر سکیں۔ چناں چہ شوہر اپنے پاس کانوں کا رکھنا بہت ضروری سمجھتے ہیں، رہ گئی بات داڑھی کی تو اسے مرد اپنی مردانگی کے اظہار کے لیے رکھنا چاہتے ہیں حالاں کہ شوہر بننے کے لیے اکثر مرد داڑھیوں کو منڈا دیتے ہیں، وجہ اس کی ہمیں کوئی خاص معلوم نہیں، صرف اتنا پتا ہے کہ شادی کے بعد مرد، مرد نہیں رہتے، زن مرید بن جاتا ہے، یعنی شادی کے بعد مرد بیوی کا مرید بن جاتا ہے۔ مرد کے چہرے پر مونچھوں کو جو مقام حاصل ہے، وہ احتجاجی بینر کا ہے، چناں چہ اسے عین ناک کے نیچے لہرانا ضروری سمجھا جاتا ہے، چناں چہ والدین اپنی ناک کی خاطر مونچھوں کے آگے جھک جاتے ہیں اور بیوی کے آگے مونچھیں۔ فرائڈ سے کسی نے پوچھا کہ عورت کس قسم کا شوہر چاہتی ہے تو بولا، اپنے باپ جیسا۔ چناں چہ لڑکی اپنے ہونے والے شوہر کا وہی حشر کرتی ہے جو اس کی ماں نے اس کے باپ کا کیا ہوتا ہے، ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ لڑکی کی رخضتی کے وقت میکے والے دھاڑیں مار مار کر اس کے لیے روتے ہیں کہ انھیں لڑکی کی جدائی کا غم ہوتا ہے حالاں کہ لڑکی کی والدہ کی آنکھوں کے سامنے اس وقت اپنے شوہر کا ماضی اور داماد کا مستقبل ہوتا ہے۔

 ڈاکٹر اخترنوازکی “پہلی غلطی” سے اقتباس

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s