Posted: January 1, 2012 in Global, uncategorized

A professor began his class by holding up a glass with some water in it. He held it up for all to see; asked the students,’ How much do you think this glass weighs?’ ’50gms!’ …. ’100gms!’ ……’125gms’ ……the students answered. ‘I really don’t know unless I weigh it,’ said the professor,’but, my question is: What would happen if I held it up like this for a few minutes?’ ‘Nothing’ the students said. ‘Ok what would happen if I held it up like this for an hour?’ the professor asked. ‘Your arm would begin to ache’ said one of the students. ‘You’re right, now what would happen if I held it for a day?’ ‘Your arm could go numb, you might have severe muscle stress; paralysis; Have to go to hospital for sure!’ ventured another student; all the students laughed. ‘Very good. But during all this, did the weight of the glass change?’ asked The professor. ‘No’ the students said. Then what caused the arm ache & the muscle stress?’ The students were puzzled. ‘Put the glass down!’ said one of the students. ‘Exactly!’ said the professor.’ Life’s problems are something like this. Hold it for a few minutes in your head; they seem OK. Think of them for a long time & they begin to ache. Hold it even longer & they begin to paralyze you. You will not be able to do anything. It’s important to think of the challenges (problems) in your life, but MORE IMPORTANTLY to ‘put them down’ at the end of every day before you go to sleep. That way, you are not stressed, you wake up every day fresh & strong & can handle any issue, any challenge that comes your way!’ Remember to   ‘ PUT THE GLASS DOWN TODAY !


گلاس نیچے رکھیے

ایک پروفیسر نے پانی کا گلاس ہاتھ میں لے کر اپنا لیکچر شروع کیا
اس نےگلاس اوپر اٹھایا تاکہ سب اسے دیکھ سکیں۔ گلاس میں کچھ پانی تھا اس نے کلاس سے پوچھا اس گلاس کا کتنا وزن ھوگا۔
کسی نے کہا 50 گرام ، کسی نے 100گرام اور کسی نے جواب دیا کہ 125 گرام
ایک نے کہا میں اس وقت تک نہیں بتا سکتا جب تک اسکا وزن نہ کرلوں
پروفیسر نے کہا لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا ھوگا اگر میں اسے کچھ دیر اسی طرح پکڑے رکھوں۔

کلاس: کچھ بھی نہیں
پروفیسر: ٹھیک لیکن کیا ھوگا اگر میں اسے ایک گھنٹہ تک اسی طرح پکڑے رکھوں
ایک طالب علم: آپ کی بازو درد کرنا شروع کردے گی
پروفیسر: بالکل درست، کیا ھوگا اگر میں اسے سارا دن پکڑے رکھوں
کلاس: اپکا بازو تھک جائے گا اور بازو کا پٹھہ بری طرح متاثر ھو سکتا ہے
پروفیسر: بالکل درست لیکن کیا اس دوران گلاس کے وزن میں کچھ فرق آئے گا
کلاس: نہیں
پروفیسر: اگر گلاس کے وزن میں کوئی فرق نہیں پڑا تو پھر بازو پر اتنا برا اثر کیوں پڑا۔ ایک منٹ تک کچھ نہیں ھوگا ایک گھنٹے میں بازو میں درد محسوس ھونا شروع ھو جائے گا دن میں بازو کا پٹھہ بالکل شل ھو جائے گا آخر کس وجہ سے
تمام طالب علم یہ سوال سن کر پزل ھوگئے کہ اسکا کیا جواب دیں
ایک طالب علم: اپنا کلاس نیچے رکھ دیں
پررفیسر: بالکل درست ،زندگی کے مسائل بھی اسی طرح ہیں
انہیں کچھ دیر اپنے ذہن میں رکھو ٹھیک۔ان کے بارے میں زیادہ دیر سوچو گے تو یہ درد سر بن جائیں گے۔ انہیں جتنی دیر خود پر سوار رکھو گے یہ اتنے ہی بھاینک محسوس ھونا شروع ھو جائیں گے۔اور آپکے ذہن کو مفلوج کر دیں گے آپ کچھ اور نہیںکر سکوگے

یہ ضروری ہے کے مسائل کے بارے میںسوچو لیکن ہر رات سونے سے پہلے انہیںذہن سے اتار دو۔ یعنی اپنا گلاس نیچے رکھ دو اس طرح یہ مسائل پریشان کن نہیں ھونگے آپ ہر روز تازہ دم اٹھیں گے اور ان سے نمٹنے کے لیئے نئے ذاویے سے سوچ سکیں گے۔ اور آپ ہر مسئلے کا مقابلہ آسانی سے کر سکیں گے

یاد رکھیں: اپنا گلاس آج نیچے رکھ کر سوئیں۔


Comments are closed.