pakistan – یومِ تکبیر اور دشمن کی گیدڑ بھبھکیاں

Posted: May 29, 2011 in Browse ME!, My Pakistan, Urdu Posts
Tags: , , , , ,

ہفتہ, 28 مئی 2011 10:38

اعظم طارق کوہستانی
آج پاکستان بھر میں 13 واں یومِ تکبیر منایا جارہا ہے۔
1998ءمیں بھارت نے پوکھران (راجستھان) کے صحرا میں ایٹمی دھماکا کیا تو رعونت وتکبر سے مست اس گیدڑ نے پاکستان کو آنکھیں دکھانا شروع کردی۔ فوج اس کی سرحدوں پر آگئی۔ قریب تھا کہ بھارت حملہ کردیتا مگر اس کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ ہر پاکستانی کا دل لرز رہا تھا۔ لبوں پر ایک ہی سوال تھا کہ اب کیا ہوگا؟ مگر خدا کی قدرت دیکھیے کہ اس کے چند روز بعد پاکستان نے چاغی کے بلند وبالا پہاڑوں میں اس سے کئی گنا زیادہ طاقتور ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کے منہ پر گویا طمانچہ رسید کردیا۔ حیرت کے مارے ہکابکا بھارت کے وہم وگمان میںبھی نہ تھا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اس درجے تک پہنچ جائے گی۔

مغربی دنیا کے بے پناہ دباﺅ اور اندرونی سازشوں کے باوجود ایٹمی دھماکے کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ سازشوں کے اس جال میں یہ انہونی معجزے سے کم نہ تھا۔ پاکستان کے یوں ”اچانک“ اتنی بڑی ایٹمی طاقت بن جانا مغربی دنیا کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ پوری مغربی دنیا میں بھونچال ساآگیا۔

اسرائیل تو اس سے پہلے ایک خوفناک منصوبہ بناچکا تھا جو اگر کامیاب ہوجاتا تو اس وقت پاکستان…. خاکم بدہن…. دنیا کے نقشے پر نہ ہوتا۔ پاکستان کے محافظ اچھی طرح جانتے تھے کہ دشمن کبھی بھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔ وہ خوب جانتے تھے کہ اسرائیل نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کو 7جون 1981ئ میں اس وقت تباہی سے دوچار کیا جب محافظوں کی ایک شفٹ اپنی ڈیوٹی ختم کرکے جارہی تھی اور دوسری شفٹ والے ابھی اپنی ڈیوٹیاں نہ سنبھالنے پائے تھے کہ درمیانی وقفے کا ٹھیک ٹھیک وقت معلوم کرکے اسرائیلی طیاروں نے ایسا اچانک اور بھرپور حملہ کیا کہ سب کچھ ملیامیٹ ہوگیا۔ ساتھ ہی وہ نامور سائنس دان بھی اللہ کو پیارا ہوگیا اور عراق اس میدان میں بہت پیچھے چلا گیا۔

ایسا ہی ایک کھیل اسرائیل نے اس وقت بھی بنایا۔ ایٹمی دھماکے سے چند روز پہلے سعودی عرب کے” اواکس “(Awacs) طیاروں نے اسرائیلی جہازوں کے 6 اسکواڈرنوں کو بھارت کی طرف پرواز کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ اس وقت کی کشیدگی اور حالات کے ”سیاق وسباق “میں سعودی فضائیہ کو یہ صورت حال بڑی عجیب وغریب اور معنی خیز معلوم ہوئی۔ چنانچہ سعودی عرب نے روایتی دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت پاکستان کو فوری طور پر اس سے مطلع کرنا اپنا فرض سمجھا۔ یہیں سے معاملہ اسرائیل کی مخالفت میںچلا گیا۔ حکومت پاکستان معاملے کو بھانپ گئی۔ مواصلاتی سیٹلائٹ کے ذریعے اسرائیلی طیاروں کی نقل وحرکت کی مانیٹرنگ شروع کردی۔

رات بارہ بجے کے قریب بھارتی سفیر سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو بہانہ تراشا گیا کہ وہ کہیں ”گئے“ ہوئے ہیں۔ دوسری دفعہ فون کیا تو معلوم ہوا کہ جناب ”سورہے“ ہیں۔ اصرار کرکے جب جگایا گیا اور بھارت میں اسرائیلی طیاروں کی مصروفیات کا سبب پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ کل سویرے اپنی حکومت سے صورت حال معلوم کرکے جواب دیں گے۔ پاکستانی حکام نے اس گول مول جواب پر بجائے سرتسلیم خم کرنے کے اسے غیر تسلی بخش پاکر سفیر کو فوراً دفتر خارجہ طلب کیا اور اسے پاکستان کے بے حد قریب ایک ایئربیس پران کی موجودگی کی فلم دکھائی۔ انہوں نے اسے بھارتی طیارے ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی…. مگر…. بے سود…. پاکستانی حکام نے کہا: ”یہ طیارے بھارت کے خرید کردہ نہیں ہیں، اسرائیل ہی کے ہیں جو کل یہاں پہنچے ہیں۔“ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا: ”اپنی حکومت کو ہمارا یہ انتباہ پہنچادو کہ اس نے اس موقع پر کسی قسم کی مہم جوئی کی کوشش کی تو ان طیاروں کے پاکستان کی طرف بڑھنے سے پہلے بھارت کو عبرت ناک سبق سکھایا جائے گا۔“

چنانچہ جب بھارت کو اس تشویش سے آگاہ کیا گیا تو اسرائیل کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔
اگر اس وقت پاکستان کے جری مجاہد اپنے گردو پیش پر گہری نظرنہ رکھتے تو انہیں شدید قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا اور وہی ہوتا جو عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کے ساتھ ہوا تھا۔ اس کے اگلے روز سات ایٹمی دھماکے کرکے یہود و ہنود کے چھکے چھڑادیئے اور بتادیا کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں اور پاکستان پر اپنی غلیظ نگاہیں جمانے والا بھارت کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے لگے۔ واقعی قوم کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس وقت بھارت کی ریشہ دوانیوں کا بھرپور جواب دیا اور پاکستانی قوم کے جذبے کو مہمیز بخشی۔ امریکا واسرائیل اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

اسرائیل اور پاکستان کی دشمنی کے صرف دو اہم اسباب ہیں۔ پہلا یہ کہ بعض عرب ملکوں نے اسرائیل کے ناجائز وجود کو سیاسی طور پر تسلیم کربھی لیا مگر پاکستان نے سخت دباﺅ کے باوجود اسرائیل کے ناجائز وجود کو ماننے سے انکار کردیا۔ دوسرا یہ کہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد ”دین اسلام“ ہے۔ یہود کا اسلام کے ساتھ بیر پندرہ صدیاں پرانا ہے۔ چنانچہ جب وہ اپنی نظریاتی بنیاد پر غور کرتے ہیں تو انہیں تاریخی تصادم یاد آجاتا ہے جس کا آغاز ریاست مدینہ میں ہوا تھا۔

اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین نے اس حقیقت کا اعتراف 1967ءکی عرب اسرائیل جنگ کے فوراً بعد کیا۔ انہوں نے پیرس کی ”ساربون یونیورسٹی“ میں ممتاز یہودیوں کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ”بین الاقوامی صیہونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستانی درحقیقت ہمارا اصلی اور حقیقی آئیڈیالوجیکل (نظریاتی) جواب ہے۔ پاکستان کا ذہنی وفکری سرمایہ اور جنگی وعسکری قوت آگے چل کر کسی بھی وقت ہمارے لیے مصیبت بن سکتی ہے۔ ہمیں اچھی طرح سوچ لینا چاہیے بھارت سے دوستی ہمارے لیے نہ صرف ضروری ہے بلکہ مفید بھی ہے۔ ہمیں اس تاریخی عناد سے لازماً فائدہ اٹھانا چاہیے جو ہندو پاکستان اور اس میں رہنے والے مسلمان کے خلاف رکھتا ہے لیکن ہماری حکمت عملی ایسی ہونی چاہیے کہ ہم بین الاقوامی دائروں کے ذریعے ہی بھارت کے ساتھ ربط وضبط رکھیں۔“

امریکی کونسل فار انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیر اہتمام چھپنے والی ایک کتاب ”مشرقی وسطیٰ: سیاست اور عسکری وسعت“ میں پاکستان کی مسلح افواج اورسول ایڈمنسٹریشن کے کردار کے حوالہ سے ذکر کیا گیا ہے: ”پاکستان کی مسلح افواج نظریہ پاکستان، اس کے اتحاد وسالمیت اور استحکام کی ضامن بنی ہوئی ہیں جبکہ ملک کی سول ایڈمنسٹریشن بالکل مغرب زدہ ہے اور نظریہ پاکستان پر یقین نہیں رکھتی۔“

ان تجزیوں کو پڑھ کر دکھ ہوتا ہے کہ یہود ونصاریٰ ہمیں ختم کرنے کے درپے ہیں جبکہ ہمیں مال سمیٹنے سے فرصت نہیں۔ اس وقت ملک پاکستان انتہائی کڑے حالات سے گزررہا ہے۔ ایٹم بم بنا تو لیا ہے مگر اس کی حفاظت بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ امریکا، بھارت، اسرائیل اور روس پاکستان کے ان ایٹم بموں پر اپنی رال ٹپکا رہے ہیں لیکن دوسری طرف حکمرانوں کی بے حسی اپنی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اگر اس موقع پر بھی ہم نے فہم وفراست کو پس پشت ڈال کر حماقت پر تکیہ کیا تو یقین جانیے یہ ایٹم بم بھی ہمیں نہیں بچاسکتا۔ ہمیں خود کو پٹھان، پنجابی، سندھی، بلوچی، کشمیری اور مہاجر کے خول سے نکال کر صرف ایک مسلمان کے خول میں سمیٹنا ہوگا۔ اگر روس، امریکا، بھارت اور اسرائیل چار مختلف مذاہب کے ملک عالم اسلام کے خلاف ایک ہوسکتے ہیں تو کیا ہم سندھی، پنجابی، بلوچی، مہاجر، پٹھان ایک نہیں ہوسکتے جب کہ ہمارا مذہب ایک ہے؟ ہمارا رسول اور ہماری کتاب ایک ہے تو پھر دلوں میں یہ تعصب کیوں؟ آپ اس پر ضرور سوچیے اور میں بھی سوچتا ہوں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s