نشان حیدر واہ جی واہ

Posted: May 28, 2011 in Browse ME!, My Pakistan, Urdu Posts
Tags: , ,

نشان حیدر واہ جی واہ

پاکستان میں سیلاب کے بعد ہمارے پڑوس میں ایک گھرانہ جو تین افراد پر مشتمل ہےآکر بسا ماں باپ اور ایک گیارہ بارہ سال کی بچی۔گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان گیا تو صبح کے وقت مسواک کاٹنے کھیتوں کی طرف جانا ہوا تو دیکھا کہ پختہ عمر کی خاتونہ سر پر ہاتھ رکھے بیٹھی رو رہی ہیں۔میں نےپوچھا ماسی کیا ہوا خیریت تو ہے؟

ماسی نے پشتو میں کہا تنگ نہ کر اور اپنا راہ لے۔ساتھ میں ہاتھ سے اشارہ بھی کر دیا۔کیونکہ ہم جاپان میں رہ کر کچھ جدید ہو گئے ہیں۔اس لئے ماسی کی پرائیویسی میں دخل نہیں دیا اور معذرت کرکے آگے نکل گئے۔واپسی پہ دیکھا ماسی اسی طرح بیٹھی رو رہی ہے۔گھر واپس آکر اماں جی کو خبر دی کہ کوئی ماسی رو رہی ہے۔

اماں جی نے فٹافٹ چادر اٹھائی اور کہا آج پھر اسے دورہ پڑا ہے۔میں جاتی ہوں۔اماں جی ہمارے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی پھرتی سےنکل گئیں۔کوئی گھنٹے بعد دیکھا دونوں آئیں اور باورچی خانے کے پاس بیٹھ گئیں۔خاموشی سےکوئی بات چیت کئے بغیر ناشتہ وغیرہ کر رہی ہیں اور چائے پی کر ماسی تو خاموشی سے اپنے گھر چلی گئی۔

بعد میں پوچھنے پر معلوم پڑا کہ ماسی کے دو جوان بیٹے سیلاب میں سوات سے بہہ گئے تھے اور جن کی لاشیں سندھ میں کہیں ملی تھیں۔مجھے بات کچھ ہضم نہیں ہوئی اور مزید پوچھا کہ گیارہ بارہ سال کی بچی بھی سیلاب سے بچ گئی اور یہ دونوں میاں بیوی بھی جو کہ جوان بھی نہیں ہیں۔دو جوان بچے کیسے سیلاب میں بہہ گئے؟

جو معلومات ملیں اس کے مطابق اگر بچے سوات میں موجود طالبان کے ساتھ نہ ہوتے تو بھی خطرہ تھا۔جو فوج نے آپریشن کیا تو جہادی تنظمیں تو تتر بتر ہوگئیں۔یہ بچے گھر پر ہی رہے۔جن کا صرف اٹھنا بیٹھنا طالبان یا مذہبی قسم کے لوگوں میں تھا۔فوج نے ان دونوں بچوں کو اٹھایا جن کی عمریں سترہ اور اٹھارہ سال تھیں۔اور ان سے تفتیش کی اس تفتیش کا نتیجے میں ان بچوں کو نشان حیدر ملا کہ دونوں کی ٹانگیں توڑ کر معذور کر دیا گیا۔

جب سیلاب آیا تو یہ دونوں بچے بھاگ نہ سکے۔اور اللہ میاں کو پیارے ہو گئے۔میرے اپنے خاندان میں سے بھی کچھ لڑکے جہادی تنظیموں میں گئے اور اس کے بعد اللہ میاں کے پاس چلے گئے۔جو غازی ہو کر دوبارہ معاشرے میں آئے ان کی ذہنی حالت منتشر ہے۔خاندان والے ان کے پیدا کئے ہوئے مسائل کو بھگت رہے ہیں۔

یہ جہادی تنظیمیں کہاں سے وجود میں آئیں کس نے بنائیں؟۔اور جو جسمانی طور پر مضبوط اور خوبصورت جوان تھا ان میں کیسے شامل ہوا؟یہ سوالات ہیں جن کے جوابات مشکل تو نہیں لیکن کٹھن ضرور ہیں۔اس کے بعد انہیں بے روزگار اور لاوارث چھوڑ دیا گیا۔یہ نہ دین کے رہے نہ دنیا کے۔وہی جو مجاہد کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔انہیں دھشت گرد ، انتہا پسند کہہ کر دیوار سے لگا دیا گیا۔

جن کا ان مذہبی تنظیموں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔فوج نے انہیں پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔جو اصلی لوگ تھے وہ آگے پیچھے ہوگئے۔ایک طرف اس دفعہ کراچی میں بحری فوجی اڈے پر حملے پر ہمارا دل دکھتا ہے تو دوسری طرف مالی مفاد کی خاطر یوٹرن لینے والوں کی بے رحمی پر بھی غصہ آتا ہے۔ادھر بھی اپنے اور ادھر بھی ان ہی کے تیار کردہ ٹھکرائے ہوئے ہیں۔

کس کو روئیں؟ اور کس کو نہ روئیں ؟ ۔کسے الزام دیں ؟ کسے مجرم کہیں؟

کوئی یاسرعباس مارا گیا۔جدی پشتی فوجی گھرانے سے تھا۔یعنی مالدار ہوا۔وزیر اعظم صاحب کی اہلیہ محترمہ پرسہ دینے پہونچ گئیں۔۔رینجر اور فائیر برگئیڈ کے کیڑے مکوڑے بھی شہید ہوئے ہیں ۔ان کے دوکمرے میں ٹھنسا بڑا سا گھرانہ ہوگا۔ان کے پاس کوئی پرسہ دینے نہیں گیا؟ یعنی نشان حیدر بھی اثر رسوخ رکھنے والوں کیلئے ہوا؟

اس اثر رسوخ کےغلط استعمال کوپہلی بار ہم نے اپنی کم سنی میں محسوس کیا جب ہم ہائی سکول کے طالب علم تھے تو بری فوج کی میراتھن ریس ہوئی ہم لوگوں نے حویلیاں سے ایبٹ آباد شہر میں فوج کی چھاونی تک دوڑنا تھا۔ہم بھی بڑی خوشی خوشی دوڑے اور ساتھ ساتھ دیکھتے گئے کہ بعض اچھے سرکاری ملازمین کے بچے بھی ہمارے ساتھ دوڑ رہے ہیں ان میں بعض ہمارے کلاس فیلو بھی تھے۔

جب وہ لڑکے تھک جاتے تو کوئی انکل شنکل ان کو بائیک پر اپنے پیچھے بیٹھا لیتے۔ہم نے کوئی دھیان نہ دیا اور اپنی دھن میں بھاگتے رہے۔ہم تین دوست تھے اور تینوں غریباں دے پتر۔ تینوں اپنی دھن میں مگن میراتھن ریس دوڑے اور فوجی چھاونی میں کھانا کھایا جو گھروں میں کم ہی کھانے کو ملتا تھا۔

وہاں پر ہم نے سنا کہ مراتھن دوڑنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے۔اخبار میں خبر بھی لگے گی اور سب کو باقاعدہ پارٹی میں میڈل دیئے جائیں گے۔ہم خوش خوش گھر واپس آئے اور سب سے کہا مزے کا کھانا بھی کھایا اور اب اخبار میں نام بھی شائع ہوگا۔میڈل وی ملے گا۔ آہو

فئیر یہ ہوا جی کہ جنہوں نے بائیک پر ریسٹ مارکہ دوڑ لگائی تھی انہیں پارٹی میں انوائیٹا گیا۔میڈل دیئے گئے۔غریباں دے پتراں کو کسی نے نہ پوچھا۔

ہم انتظار ہی کرتے رہ گئے کہ کب دعوت نامہ ملتا ہے۔

تو جناب نشان حیدر بھی کچھ ایسی ہی شے ہے۔ہیرو نہیں تھا تو کیا ہوا۔۔ہم بنا دیں گے نا۔۔۔۔آہو۔

سید یاسر جاپانی کے بلاگ سے

__________________

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s